عراق: اربیل میں نیٹو بیس پر حملہ، اٹلی کا اپنے فوجیوں کو ہنگامی طور پر نکالنے کا حکم

روم (ر م نیوز)عراق میں اربیل میں نیٹو بیس پر حملے کی وجہ سے اٹلی کا اپنے فوجیوں کو ہنگامی طور پر نکالنے کا حکم دیا ہے۔ اطالوی حکومت نے عراقی شہر اربیل میں قائم نیٹو (NATO) کے فوجی اڈے پر حملے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر اٹلی نے اپنے فوجیوں کی بحفاظت منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

اطالوی وزیر دفاع نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حملے کے وقت اطالوی فوجی محفوظ مقامات پر موجود تھے، جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث فوجیوں کی عارضی منتقلی ناگزیر ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 102 اہلکار عراق سے اٹلی پہنچ چکے ہیں۔ 40 اہلکاروں کو فوری طور پر پڑوسی ملک اردن منتقل کر دیا گیا ہے۔

باقی ماندہ فوجیوں کو زمینی راستے سے ترکیہ کے ذریعے نکالنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ وزیر دفاع نے واضح کیا ہے کہ یہ منتقلی ایک "عارضی حفاظتی اقدام" ہے اور اسے عراق سے اطالوی فوج کا مکمل انخلا تصور نہ کیا جائے۔ حالات سازگار ہوتے ہی مشن کی دوبارہ بحالی پر غور کیا جائے گا۔