اسلام آباد/حیدرآباد (رم نیوز)خواتین کے ہاتھوں کی نئی زینت 'کشمیری چوڑیوں' کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ملک بھر میں عید الفطر کی تیاریاں عروج پر ہیں، لیکن اس بار خواتین کے فیشن میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
برسوں سے رائج کانچ کی چوڑیوں کی جگہ اب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی 'کشمیری چوڑیوں' نے لے لی ہے، جو اس وقت مارکیٹ کا سب سے ہٹ ٹرینڈ بن چکی ہیں۔ فیشن ماہرین کے مطابق انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر فیشن بلاگرز کی جانب سے ان چوڑیوں کی تشہیر نے انہیں راتوں رات مقبول بنا دیا ہے۔
اب بازاروں میں خواتین موبائل فون میں تصاویر دکھا کر "وائرل کشمیری چوڑیاں" طلب کر رہی ہیں۔یہ چوڑیاں اپنی نزاکت اور دیدہ زیب ڈیزائن کی وجہ سے خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ان چوڑیوں کو ریشمی دھاگوں، مخملی کپڑے، ستاروں اور باریک موتیوں سے سجایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کشمیر کے نام سے مشہور یہ چوڑیاں بڑی تعداد میں حیدرآباد میں تیار ہو رہی ہیں۔
مارکیٹ میں ان کا ایک سیٹ 1000 سے 1500 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جو مہنگا ہونے کے باوجود ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ صبح سے شام تک دکانوں پر صرف ان رنگین تخلیقات کی مانگ رہتی ہے۔ خریدار خواتین کے مطابق یہ چوڑیاں پہننے میں ہلکی اور دیکھنے میں بھاری لگتی ہیں، جو عید کے روایتی جوڑوں کے ساتھ ایک مکمل اور شاہانہ لک دیتی ہیں۔