کولمبو/ڈھاکہ (رم نیوز)توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے سری لنکا میں ہفتہ وار اضافی تعطیل کا اعلان کیاگیا ہے اور 'نیشنل فیول پاس' بھی لازمی قرار دیاگیا ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سٹریٹجک اہمیت کی حامل بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش نے پورے ایشیا کو شدید ایندھن بحران کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
صورتحال سے نمٹنے کے لیے سری لنکا، میانمار، بنگلہ دیش اور فلپائن سمیت کئی ایشیائی ممالک نے ایندھن کی بچت کے لیے غیر معمولی ہنگامی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ تیل اور گیس کی سپلائی میں تعطل کے باعث مختلف ممالک نے درج ذیل پالیسیاں اپنائی ہیں۔سری لنکا حکومت نے ایندھن بچانے کے لیے ہر بدھ کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ شہریوں کے لیے 'نیشنل فیول پاس' بھی لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے تحت کوٹے کے مطابق ایندھن فراہم کیا جائے گا۔بنگلہ دیش میں ملک بھر میں باقاعدہ 'پلانڈ بلیک آؤٹ' (لوڈ شیڈنگ) کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ایندھن کی بچت کے لیے یونیورسٹیوں میں عید کی تعطیلات کا قبل از وقت اعلان کر دیا گیا ہے۔
میانمار میں نجی گاڑیوں کو ان کے لائسنس پلیٹ نمبروں کے لحاظ سے صرف متبادل دنوں میں سڑک پر لانے کی اجازت دی گئی ہے۔فلپائن میں سرکاری ملازمین کے لیے ہفتے میں کم از کم ایک دن 'گھر سے کام' (Work from Home) لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل اور گیس کا 90 فیصد حصہ ایشیائی ممالک کے لیے تھا، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا خطہ ہے۔ اس اہم گزرگاہ کی بندش سے سپلائی چین مکمل طور پر متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث ایشیائی معیشتوں پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔