عالمی معیشت میں ہلچل: سونے کی 'محفوظ پناہ گاہ' کی حیثیت پر سوالیہ نشان

لندن/واشنگٹن (رم نیوز) دنیا بھر میں اس وقت سونے کی 'محفوظ پناہ گاہ' کی حیثیت پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں اورعالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتیں اور سرمایہ کاری سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ معروف ماہرِ اقتصادیات ریمی بوریُو نے عالمی مالیاتی مارکیٹ میں سونے کی مستقبل کی حیثیت کے حوالے سے ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سونا اب وہ روایتی محفوظ اثاثہ نہیں رہا جس پر سرمایہ کار بحران کے وقت بھروسہ کرتے تھے۔

ریمی بوریُو کے مطابق، حالیہ عالمی صورتحال میں سونے کی قیمتیں کسی ٹھوس بنیاد کے بجائے زیادہ تر قیاس آرائیوں اور سٹہ بازی (Speculation) کی نذر ہو چکی ہیں۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا دارومدار اب دو اہم عوامل پر ہے ۔ اگر امریکہ میں شرحِ سود میں کمی کا کوئی واضح اشارہ ملتا ہے تو سونے کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اہم ایرانی شخصیات کے بارے میں معلومات دینے پر امریکی انعامات کے اعلانات نے خطے میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران جنگ طویل ہوتی ہے تو عالمی معاشی خطرات سونے کی قیمت کو آسمان تک پہنچا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سونا اب ایک ایسی پوزیشن پر ہے جہاں اس میں سرمایہ کاری کرنا کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام اور سیاسی بیانات کی وجہ سے سونے کی قیمتیں غیر متوقع طور پر کسی بھی طرف جا سکتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک امریکی شرحِ سود یا جنگی صورتحال واضح نہیں ہوتی، سونا ایک "رسکی" اثاثہ ہی رہے گا۔