کراچی/اسلام آباد (رم نیوز)بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے 28 ویں ترمیم کی تیاری کی جارہی ہے ۔ اس سلسلے میں وزیراعظم اور ایم کیو ایم میں بڑا اتفاق ہوا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔
کراچی میں ہونے والی اس 35 منٹ طویل ملاقات میں بلدیاتی اداروں کو آئینی طور پر بااختیار بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے وفد نے مطالبہ کیا کہ مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 140 اے کو لازمی شامل کیا جائے تاکہ نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم کے مطالبے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے آئینی ترامیم کو دوبارہ ڈرافٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ دونوں جماعتوں نے اتفاق کیا ہے کہ ترامیم کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم رہنماؤں نے وزیراعظم سے شکوہ کیا کہ 27 ویں ترمیم کے وقت پیپلز پارٹی کی عدم رضامندی کا عذر پیش کیا گیا تھا، لیکن اب بلدیاتی اداروں کو تحفظ دینا ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ نہال ہاشمی تمام معاملات میں سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی اکائیوں اور مقامی حکومتوں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سیاسی تعاون کو حتمی شکل دینے کے لیے ایم کیو ایم کا وفد اگلے ہفتے اسلام آباد روانہ ہوگا، جہاں وزیراعظم سے ایک اور تفصیلی ملاقات میں ترامیم کے حتمی ڈرافٹ اور منظوری کے عمل پر غور کیا جائے گا۔