نئی دہلی / اسلام آباد (رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے جہاں عالمی سیاست کے سمندر میں تلاطم برپا کر رکھا ہے، وہی پاک ،ہند سفارتی محاذ پر بھی ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ایک حالیہ 'غیر سفارتی' بیان نے سرحد کے دونوں جانب سیاسی درجہ حرارت کو انتہا پر پہنچا دیا ہے۔ بدھ کی شب نئی دہلی میں منعقدہ ایک بند کمرہ اجلاس کے دوران، جب بھارتی اپوزیشن نے ایران ،امریکہ تنازع میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے ثالثی کردار پر سوال اٹھائے، تو جے شنکر اپنے روایتی تیکھے تیوروں پر قابو نہ رکھ سکے۔
انہوں نے پاکستان کی امن کوششوں کو 'دلالی' سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا انڈیا پاکستان کی طرح 'بروکر' ملک نہیں بننا چاہتا جو دوسروں سے جا کر پوچھے کہ کیا انہیں ہماری ضرورت ہے؟۔ اس بیان نے پاکستانی ایوانوں میں شدید غصہ پیدا کیا۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان ظاہر اندرابی نے اسے 'جھنجھلاہٹ کی عکاسی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا طرزِ عمل وقار پر مبنی ہے، جبکہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے جے شنکر کو ان کی اپنی زبان میں جواب دیتے ہوئے 'شخصی محرومی' کا شکار قرار دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جے شنکر کو صرف پاکستان سے ہی نہیں، بلکہ خود اپنے گھر (انڈیا) سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ کانگریس رہنما جے رام رمیش نے اسے مودی حکومت کی "سفارتی تباہی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ خود ناکام ہوتے ہیں تو دوسرے ممالک کو 'بروکر' کہہ کر اپنی شرمندگی چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ جے شنکر کا یہ بیان دراصل انڈین خارجہ پالیسی کے اس خوف کو ظاہر کرتا ہے کہ کہیں واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کا دوبارہ 'فرنٹ لائن' بننا انڈیا کو عالمی منظر نامے سے پیچھے نہ دھکیل دے۔