بیجنگ (رم نیوز) آبنائے ہرمز کی بندش سے ایشیائی ممالک میں توانائی کا سنگین بحران جنم لے رہا ہے ۔ جاپان اور کوریا سمیت کئی ممالک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' کی بندش نے ایشیائی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایشیا کی 90 فیصد تیل کی ضروریات اسی راستے سے وابستہ ہونے کے باعث جاپان، جنوبی کوریا، ویتنام اور فلپائن جیسے ممالک نے ایندھن کے بحران سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اور سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
ٹوکیو حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں پر عائد تمام پابندیاں عارضی طور پر ہٹا دی ہیں۔ اب یہ پاور پلانٹس ایندھن کی کمی پوری کرنے کے لیے اپنی 100 فیصد صلاحیت پر کام کریں گے۔ سیول نے پیٹرو کیمیکلز میں استعمال ہونے والے اہم جز 'نیفتھا' کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ علامتی طور پر صدارتی دفتر کی آدھی روشنیاں بھی بند کر دی گئی ہیں تاکہ عوام کو توانائی بچت کا پیغام دیا جا سکے۔ حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر 25 فیصد کمی لانے کے لیے ایندھن پر عائد 'ماحولیاتی ٹیکس' 15 اپریل تک معاف کر دیا ہے۔
سنگاپور نے ہوا بازی کی صنعت کو سہارا دینے کے لیے روانہ ہونے والی پروازوں پر 'گرین جیٹ فیول لیوی' کی وصولی جنوری 2027 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ایندھن کی کمر توڑ قیمتوں کے خلاف ٹرانسپورٹ ورکرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ حکومت نے صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر ملک میں 'قومی توانائی ایمرجنسی' کا اعلان کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی معیشتیں اس وقت بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز کی بندش طویل ہوئی تو یہ عارضی اقدامات ناکافی ثابت ہوں گے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہیں۔