ایران میں سٹارلنک انٹرنیٹ پر پابندی: صارفین کو دو سال قید اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم

تہران(رم نیوز) ایران میں سٹارلنک انٹرنیٹ پر پابندی ہے۔ صارفین کو دو سال قید اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ ایرانی حکام نے سٹارلنک ڈیوائسز رکھنے والوں کے لیے دو سال قید کی سخت سزا مقرر کر دی ہے اور ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ صوبہ یزد کے پولیس کمانڈر کے مطابق، حالیہ کارروائیوں کے دوران مشکوک سرگرمیوں میں ملوث افراد کے 61 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں جبکہ متعدد سٹارلنک آلات بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔

ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ 17 مارچ سے اب تک ملک بھر سے سینکڑوں غیر قانونی سیٹلائٹ ڈیوائسز برآمد کی جا چکی ہیں۔ حکومتی سختہ کے باعث ایران میں انٹرنیٹ کی ایک غیر قانونی منڈی وجود میں آ چکی ہے۔ سٹارلنک تک رسائی کے لیے ٹیلی گرام ایپس کے ذریعے ڈیٹا بیچا جا رہا ہے۔ ایک جی بی (1GB) ڈیٹا کی قیمت 6 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اوسطاً 200 سے 300 ڈالر ماہانہ کمانے والے ایرانی شہریوں کے لیے یہ قیمت انتہائی زیادہ ہے، مگر مواصلاتی رابطوں کی بحالی کے لیے لوگ یہ بھاری قیمت چکانے پر مجبور ہیں۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ سٹارلنک ڈیوائس کا استعمال یا اسے صرف اپنے پاس رکھنا بھی ایک سنگین جرم ہے، جس کی سزا دو سال تک قید ہو سکتی ہے۔ حکومت کا مقصد سیٹلائٹ لہروں کے ذریعے ہونے والی اس 'ڈیجیٹل دراندازی' کو مکمل طور پر روکنا ہے۔