اسلام آباد (رم نیوز) وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے "عالمی زیرو ویسٹ ڈے" کے موقع پر پاکستان کے فشریز سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے قومی ڈیجیٹل ایپلی کیشن "ماہی دوست" لانچ کر دی۔ اس موقع پر انہوں نے سمندری خوراک کے ضیاع کو ملکی معیشت اور ماحولیات کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے عالمی زیرو ویسٹ ڈے کے تھیم "فوڈ لاس اینڈ ویسٹ" کو پاکستان کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں سالانہ 20 سے 30 فیصد سمندری خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ضیاع نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ہمارے سمندری ماحول کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔
پاکستان کی فشریز انڈسٹری سے 15 لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے، جن کے معاشی تحفظ کے لیے ویسٹ میں کمی ناگزیر ہے۔ جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ نئی لانچ کی گئی "ماہی دوست" ایپ فشریز سیکٹر میں انقلاب لائے گی۔ اس ایپ کے ذریعے سمندری خوراک کی سپلائی چین میں ہونے والے ضیاع (Waste) کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ماہی گیروں کی آمدنی میں اضافہ اور معیشت میں استحکام آئے گا۔ پاکستان کی برآمدات (Exports) کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ وزیر بحری امور نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سمندری خوراک کے ضیاع میں کمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی فوڈ ویسٹ میں کمی سے جہاں ایک طرف ماحولیاتی تحفظ یقینی ہوگا، وہاں دوسری طرف قومی معیشت کو بھی اربوں روپے کا فائدہ پہنچے گا۔