لندن(رم نیوز)برطانوی حکومت نے ملک بھر میں کم از کم اجرت (National Minimum Wage) میں اضافے کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے، جس سے کم و بیش 27 لاکھ محنت کش براہِ راست مستفید ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، عمر کے مختلف گروہوں کے لیے اجرتوں کا نیا ڈھانچہ کچھ یوں ہے۔ بڑی عمر کے ملازمین، 21 سال یا اس سے زائد عمر کے ورکرز کے لیے کم از کم اجرت بڑھا کر 12.71 پاؤنڈ فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔کم عمر ملازمین اور اپرنٹس شپ کرنے والے افراد کے لیے بھی مراعات میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی نئی اجرت 8 پاؤنڈ فی گھنٹہ مقرر ہوئی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملک میں جاری مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔اس اقدام سے خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے کی مالی حالت بہتر ہوگی اور ان کی قوتِ خرید میں اضافے سے معیشت کو استحکام ملے گا۔ جہاں ایک طرف اس فیصلے کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے، وہاں معاشی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس سے کاروباری اداروں، خصوصاً چھوٹے پیمانے کے کاروباروں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ تاہم، حکومت کا مؤقف ہے کہ ورکرز کو ایک مناسب 'لیونگ ویج' فراہم کرنا ریاست کی اولین ترجیح ہے۔