کراچی (رم نیوز)وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری کی زیرِصدارت کراچی بندرگاہ پر طویل عرصے سے پھنسے ہوئے پرانے کنٹینرز اور کارگو کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بندرگاہوں پر بڑھتے ہوئے رش کو کم کرنے اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کئی بڑے فیصلے کیے گئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ حالیہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر بندرگاہوں پر ٹرانس شپمنٹ کارگو کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بندرگاہوں پر رش کم کرنے کے لیے ایک جامع اور ٹھوس حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ وفاقی وزیر نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) اور ٹرمینل آپریٹرز کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا بندرگاہ پر موجود پرانے کنٹینرز کو 30 روز کے اندر ہٹایا جائے۔تمام کنٹینرز کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔KPT اور ٹرمینل آپریٹرز سے کنٹینرز کی منتقلی کا باقاعدہ 'شفٹنگ پلان' طلب کر لیا گیا ہے
۔جنید انوار چوہدری نے ہدایت کی کہ آف ڈاک ٹرمینلز پر کارگو کی منتقلی کے لیے ایک واضح اور شفاف کمرشل میکنزم تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آف ڈاک سہولیات اور ٹرانس شپمنٹ کارگو کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ بندرگاہ کی جگہ کو بہتر طور پر استعمال کرنے کے لیے وفاقی وزیر نے حکم دیا کہ اضافی سامان، لکڑی کے پیلیٹس اور غیر استعمال شدہ آلات کو فوری طور پر وہاں سے ہٹایا جائے۔ان اقدامات سے نہ صرف بندرگاہ پر رش کم ہوگا بلکہ ملک کے مجموعی لاجسٹکس نظام میں بھی بہتری آئے گی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد بندرگاہوں پر آپریشنز کو تیز بنانا ہے تاکہ تاجر برادری کو سہولت ملے اور ملکی تجارت میں حائل رکاوٹیں دور ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقررہ مدت کے اندر کنٹینرز نہ ہٹانے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔