لاہور (رم نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں سموگ کی سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ غیر مقامی درخت لاہور کے ماحول کو بہتر بنانے کے بجائے نقصان پہنچا رہے ہیں، جس پر قابو پانا ناگزیر ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس میں جسٹس شاہد کریم نے مختلف سرکاری محکموں کی رپورٹس کا جائزہ لیا۔
سماعت کے دوران پی ایچ اے (PHA) نے درختوں کی ٹرانسپلانٹیشن سے متعلق قواعد عدالت میں پیش کیے۔ جسٹس شاہد کریم نے ماحولیاتی بگاڑ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا لاہور کے ماحول کو غیر مقامی درختوں سے نقصان پہنچ رہا ہے، پورے سال کی محنت ایک ماہ کی اسموگ میں ضائع ہو جاتی ہے۔ ملک میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، اس سلسلے میں عالمی ادارے (WWF) کی سفارشات بھی حاصل کی جائیں۔ دورانِ سماعت جوڈیشل واٹر کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 11 ہزار درخت کاٹنے کا منصوبہ فی الحال روک دیا گیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ جوڈیشل واٹر کمیشن موجودہ رولز کا تفصیلی جائزہ لے کر ان میں ضروری ترامیم کرے۔لاہور ہائیکورٹ نے حکومت کو سموگ پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ سرکاری محکموں سے عملدرآمد رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے اب سنجیدہ فیصلے کرنے کا وقت آ گیا ہے۔