آبنائے باب المندب آج کل ایران اور امریکہ کی جنگ کی وجہ سے خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ اس کو عالمی تجارت کی شہ رگ کہاجاتا ہے، یہ بھی کہاجاتا ہے کہ اس کی وجہ سے دنیا مفلوج ہوسکتی ہے۔ آبنائے باب المندب، جسے عربی زبان میں اپنی جغرافیائی سختیوں اور تاریخی خطرات کی بنا پر ’باب المندب‘ یعنی ’آنسوؤں کا دروازہ‘ یا ’غم کا دروازہ‘ کہا جاتا ہے، آج ایک بار پھر عالمی معیشت اور جہاز رانی کی صنعت کے لیے سب سے بڑا ڈراؤنا خواب بن کر ابھرا ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے۔
موجودہ حالات میں باب المندب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ تیل و گیس کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں پہلے سے موجود تناؤ کے بعد باب المندب میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نے توانائی کی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ باب المندب کا نام اس کے تیز سمندری دھاروں، غیر متوقع ہواؤں اور ان چٹانوں کی عکاسی کرتا ہے جنہوں نے قدیم زمانے میں کئی جہازوں کو غرق کیا۔ تاہم جدید دور میں اس کے خطرات قدرتی سے زیادہ انسانی اور سیاسی ہو چکے ہیں۔ 2008 سے 2012 کے درمیان صومالی قزاقوں کے حملوں اور تجارتی جہازوں کے عملے کے اغوا نے بین الاقوامی برادری کو اس خطے میں سکیورٹی بڑھانے پر مجبور کیا تھا۔ آج قزاقی کے ساتھ ساتھ علاقائی تنازعات اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس راستے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔ یکم اپریل 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق، برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں 64 فیصد کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ 1990 کی خلیجی جنگ کے بعد ہونے والا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہے، جو عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہولناک اضافے کا پیش خیمہ ہے۔ باب المندب سے روزانہ درجنوں تجارتی جہاز ہزاروں ٹن کارگو لے کر گزرتے ہیں۔ اس راستے میں معمولی سا تعطل بھی درج ذیل شعبوں کو متاثر کر رہا ہے۔ عام صارفین کی مصنوعات سے لے کر الیکٹرانکس تک، ہر چیز کی قیمت مال برداری کے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے اوپر جا رہی ہے۔خوراک کی عالمی ترسیل متاثر ہونے سے کئی ممالک میں غذائی قلت اور مہنگائی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ شپنگ کمپنیوں کو اب طویل اور مہنگے متبادل راستے (جیسے افریقہ کا چکر لگانا) اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہو رہے ہیں۔
آج عالمی برادری ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعات نے معاشی اثرات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اگر 'غم کا دروازہ' مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے یا یہاں سکیورٹی کے حالات مزید بگڑتے ہیں، تو عالمی تجارت کا پہیہ جام ہو سکتا ہے۔ دنیا کی نظریں اب سٹریٹجک پالیسی سازوں پر ہیں کہ وہ کس طرح اس اہم بحری گزرگاہ کو محفوظ بناتے ہیں۔ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو باب المندب کا 'غم' صرف اس کے نام تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری دنیا کی منڈیوں میں صفِ ماتم بچھا دے گا۔