لندن ( رم نیوز)برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے عالمی معیشت کو بچانے کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے خلاف ان کی اپیل پر دنیا کے 40 سے زائد ممالک ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئے ہیں۔
برطانوی وزیرِ اعظم کی قیادت میں منعقدہ اس اہم اجلاس میں فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات سمیت درجنوں ممالک نے شرکت کی۔ کیئر اسٹارمر کی اس کوشش کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں دنیا کو اکٹھا کیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مسئلے سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا تھا۔ سٹارمر کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں اور عملے کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جسے کم کرنے کے لیے اس راستے کا کھلنا ناگزیر ہے۔
منصوبے کے تحت جنگ بندی کے بعد سمندری راستے کو بارودی سرنگوں سے پاک کیا جائے گا۔ اگرچہ کیئر سٹارمر نے ایک وسیع اتحاد بنا لیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی حتمی کامیابی کا انحصار ایران کے ساتھ مذاکرات پر ہے۔ ایران فی الحال صرف پاکستان، چین اور بھارت جیسے چند 'دوست ممالک' کو محدود گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔وزیراعظم سٹارمر نے عزم ظاہر کیا ہے کہ یہ اتحاد نہ صرف سفارتی دباؤ بڑھائے گا بلکہ خطے میں جہاز رانی کی مستقل آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سیاسی و تکنیکی اقدامات کرے گا۔