جنگی حالات کے باعث ایران میں دنیا کی طویل ترین انٹرنیٹ بندش کا نیا ریکارڈ، معیشت بری طرح متاثر

تہران(رم نیوز) ایران میں جاری جنگی بحران کے دوران انٹرنیٹ کی ریاستی سطح پر بندش نے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ کی مانیٹرنگ کرنے والے بین الاقوامی ادارے 'نیٹ بلاکس' کے مطابق یہ دنیا کی تاریخ میں کسی بھی ملک میں اب تک کا طویل ترین اور مکمل ترین 'ڈیجیٹل بلیک آؤٹ' ہے۔ نیٹ بلاکس کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والے حملوں کے بعد سے ملک میں عالمی انٹرنیٹ تک رسائی صرف 1 فیصد رہ گئی ہے۔ایرانی شہریوں کو اب صرف ایک انتہائی سست رفتار اور محدود قومی نیٹ ورک (انٹرانیٹ) تک رسائی دی جا رہی ہے جو صرف سرکاری خبروں اور مخصوص بنیادی سروسز تک محدود ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ میانمار، سوڈان، کشمیر اور تیگرائے میں بھی ماضی میں طویل بلیک آؤٹ دیکھے گئے، لیکن ایران میں جس بڑے پیمانے پر کنیکٹیویٹی کاٹ کر اسے قومی نیٹ ورک پر شفٹ کیا گیا ہے، اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔معاشی ماہرین اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد نے اس بندش کو ملکی معیشت کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔آن لائن کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو چکے ہیں جس سے ملک کو روزانہ کروڑوں ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔

آئی ٹی اور ٹیک کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں شروع ہو چکی ہیں اور بے روزگاری میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔عام شہری رابطوں کے لیے انتہائی مہنگے متبادل اور پراکسی ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ حکومت صرف خاص ریاستی اداروں اور سرکاری میڈیا کو ہی انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث ملک میں بجلی کی فراہمی اور دیگر صنعتی ڈھانچہ بھی دباؤ کا شکار ہے، تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے اس طویل ترین انٹرنیٹ بلیک آؤٹ پر اب تک کوئی باضابطہ وضاحت نہیں کی گئی۔