واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نیست و نابود کرنے کی براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو ایک ہی رات میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ رات "آج" بھی ہو سکتی ہے۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران کے لیے منگل کی ڈیڈ لائن کو حتمی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کا کوئی پل سلامت نہیں بچے گا۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے اندر ایک انتہائی پیچیدہ اور خطرناک آپریشن کر کے اپنے ایک زخمی پائلٹ (کرنل) کو بحفاظت نکال لیا ہے۔اس مشن میں 155 طیاروں اور 200 فوجیوں نے حصہ لیا۔ صدر کے مطابق 48 گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں 48 ری فیولنگ ٹینکرز اور 13 ریسکیو ایئرکرافٹ بھی شامل تھے۔ صدر نے بتایا کہ انہوں نے حساس ٹیکنالوجی دشمن کے ہاتھ لگنے سے بچانے کے لیے ریت میں پھنسے اپنے ہی دو بڑے طیاروں کو خود تباہ کرنے کا حکم دیا، کیونکہ "امریکہ اپنے جہازوں سے زیادہ اپنے فوجیوں کی جان کو ترجیح دیتا ہے۔امریکی صدر نے ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 30 دنوں کے دوران ایران میں 10,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد "رجیم کی تبدیلی" (Regime Change) تھا اور اب ایران کے پاس صرف چند میزائل اور ڈرونز ہی باقی بچے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہرگز نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم ایران کے تیل پر قبضہ کر لیں گے۔ ہمارے پاس ایسا اسلحہ ہے جو دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہے۔پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے میڈیا پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو مشن کی خفیہ معلومات لیک کرنے والے رپورٹرز کا پتہ لگایا جائے گا اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کو جیل ہونی چاہیے۔صدر نے اس مشن کی کامیابی کو امریکی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت قرار دیا۔