آبنائے ہرمز سے یمن تک امن کا نیا روڈ میپ؛ ایران کا 10 نکاتی منصوبہ کیا ہے؟

تہران (رم نیوز) ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق، امریکہ کے ساتھ حالیہ سفارتی رابطوں میں جس 10 نکاتی منصوبے پر بات چیت ہو رہی ہے، اس کی مکمل تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ یہ نکات خطے میں پائیدار امن اور ایران کی معاشی بحالی کے لیے کلیدی قرار دیے جا رہے ہیں۔


علاقائی جنگوں کا خاتمہ: عراق، لبنان اور یمن میں جاری تمام مسلح تنازعات اور مداخلت کا فوری اور مکمل خاتمہ کیا جائے۔

مستقل امن کی ضمانت: ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جنگ یا فوجی کارروائی کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے، جس میں وقت کی کوئی قید نہ ہو۔

ہمہ جہت علاقائی مصالحت: مشرقِ وسطیٰ کے تمام تنازعات کو ایک جامع سیاسی فریم ورک کے تحت حل کر کے مکمل امن قائم کیا جائے۔

آبنائے ہرمز کی بحالی: عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کو بین الاقوامی تجارت کے لیے دوبارہ کھولا جائے۔

بحری سکیورٹی پروٹوکول: آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ اور آزادانہ بنانے کے لیے نئے بین الاقوامی قوانین اور شرائط وضع کی جائیں۔

تعمیرِ نو کا معاوضہ: گذشتہ برسوں میں جنگوں اور پابندیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ایران کو مکمل مالی معاوضہ ادا کیا جائے۔

پابندیوں کا مکمل خاتمہ: ایران پر عائد تمام یکطرفہ اور کثیر الجہتی اقتصادی و سیاسی پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

منجمد اثاثوں کی واپسی: امریکہ اور دیگر ممالک کے بینکوں میں روکے گئے ایرانی فنڈز اور قومی اثاثوں کو بغیر کسی تاخیر کے رہا کیا جائے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کی یقین دہانی: ایران باضابطہ طور پر یہ ضمانت فراہم کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

فوری جنگ بندی: مندرجہ بالا تمام شرائط کی منظوری اور عملدرآمد کے آغاز کے ساتھ ہی تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی نافذ کر دی جائے گی۔