کیا سونا مزید مہنگا ہوگا؟ اسلام آباد مذاکرات اور عالمی معاشی فیصلے قیمتوں کا مستقبل طے کریں گے

کراچی/اسلام آباد (رم نیوز) توانائی کے شعبے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی سطح پر لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایسے حالات میں جب روایتی اثاثوں کی قدر میں کمی کا خطرہ ہو، تو سرمایہ کار سونے کو اپنے سرمائے کے تحفظ کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کا جو خدشہ پیدا کیا ہے، اس نے سرمایہ کاروں کو کرنسی کے بجائے سونے کی جانب راغب کر دیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس وقت عالمی اور مقامی صرافہ بازار کی تمام تر نظریں 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات پر جمی ہیں۔

پاکستان میں بھی سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 93 ہزار روپے کی بلند ترین سطح کو چھونے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کسی مثبت نتیجے پر پہنچتے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے، تو سونے کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے۔اس کے برعکس، مذاکرات میں تعطل یا ناکامی کی صورت میں سونے کی قیمتیں ایک نیا ریکارڈ قائم کر سکتی ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات کے ساتھ ساتھ، امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کے آنے والے فیصلے بھی سونے کی عالمی قیمتوں کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اگر امریکی بینک شرحِ سود میں تبدیلی یا مہنگائی کے حوالے سے کوئی سخت پالیسی اپناتا ہے، تو اس کا براہِ راست اثر ڈالر کی قدر اور سونے کے نرخوں پر پڑے گا۔