اسلام آباد(رم نیوز)پاکستان کی وفاقی دارالحکومت آج ایک تاریخی سفارتی سرگرمی کا مرکز بننے جا رہی ہے، جہاں دہائیوں سے حریف چلے آنے والے ممالک، امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود مذاکرات کے لیے آمنے سامنے ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خصوصی ہدایت پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ اس اہم مشن میں ان کے ہمراہ سابق صدر کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں۔ امریکی وفد کی معاونت کے لیے سکیورٹی ماہرین سمیت 23 ارکان پر مشتمل ٹیم پہلے ہی اسلام آباد میں ڈیرے ڈال چکی ہے۔
دوسری جانب، تہران سے سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آج رات گئے پاکستان پہنچیں گے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس دورے کے حوالے سے پاکستانی حکام کو پہلے ہی مطلع کر دیا تھا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ایران ان مذاکرات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں وفود کے درمیان باقاعدہ بات چیت کا آغاز ہفتے کی صبح ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی ہے کہ اس ٹیم کو بھیجنے کا مقصد ایران کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنا اور نئے تعلقات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
سیاسی ماہرین اس پیش رفت کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کا دونوں ممالک کے درمیان بطور 'ثالث' یا 'میزبانی' کا کردار ادا کرنا خطے میں امن و امان اور معاشی استحکام کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ جیرڈ کشنر کی اس ٹیم میں شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ مذاکرات کا دائرہ کار صرف سیاسی نہیں بلکہ اس میں اہم علاقائی اور معاشی پہلو بھی شامل ہوں گے۔1