پاکستان کی بڑھتی ہوئی سٹریٹجک اہمیت: کیا یہ نئی خارجہ پالیسی کا ثمر ہے؟

امریکہ ایران مذاکرات کے معاملے میں پوری دنیا کی نظریں اس وقت اسلام آباد ٹالکس یا پیس ٹالکس پر ہیں۔اسلام آباد میں امن مذاکرات کی تمام تیاریاں مکمل ہیں ، اسلام آباد اس وقت ریڈ الرٹ ہے۔ پاکستان اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستان کو اس وقت امن کی پہچا ن کہاجارہا ہے۔ جنگ بندی میں عالمی رہنما پاکستان کے مشکور ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ عالمی سیاست میں ثالثی کا کردار وہی ملک ادا کر سکتا ہے جس کے پاس نہ صرف جغرافیائی اہمیت ہو بلکہ جس کی نیت اور صلاحیت پر عالمی دنیا کو بھی مکمل اعتماد اور بھروسہ ہو۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں ثابت کیا ہے کہ وہ متضاد مفادات رکھنے والی طاقتوں کے درمیان ایک "غیر جانبدار مرکز" بننے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے۔

یہ کردار پاکستان کی سافٹ پاور میں اضافے اور عالمی سطح پر اس کی سیاسی قد و قامت کی بلندی کا ثبوت ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی محض دو ملکوں کا جھگڑا نہیں بلکہ یہ عالمی توانائی کی گزرگاہوں، جوہری عدم پھیلاؤ اور مشرقِ وسطیٰ کے اقتدار کے توازن کا مسئلہ ہے۔ حالیہ برسوں میں جے سی پی او اے (JCPOA) سے امریکہ کے نکلنے کے بعد جو خلا پیدا ہوا، اسے پر کرنے کے لیے اب دونوں فریقین ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں "لچک" دکھانا ان کی تزویراتی ضرورت بن چکا ہے۔ایران کے لیے کسی بھی معاہدے میں لچک دکھانے کا مطلب اپنی معیشت کو بچانا ہے۔ ایران کی اولین شرط معاشی پابندیوں کا مکمل خاتمہ ہے۔ ایران تبھی لچک دکھائے گا جب اسے ٹھوس ضمانت ملے گی کہ مستقبل میں کوئی امریکی صدر دوبارہ معاہدے سے انحراف نہیں کرے گا۔ امریکہ کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اسرائیل اور خلیجی ممالک (سعودی عرب و دیگر) امریکہ پر دباؤ رکھتے ہیں کہ ایران کو صرف جوہری پروگرام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ (Proxies) کو بھی روکا جائے۔ امریکہ میں انتخابات کے قریب آنے پر انتظامیہ کے لیے ایران کو "رعایت" دینا سیاسی طور پر مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ اپوزیشن اسے کمزوری سے تعبیر کرتی ہے۔ تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک مکمل اور جامع معاہدے کے بجائے، چھوٹے پیمانے پر معاہدہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے کہاجارہا ہے کہ امریکہ منجمد ایرانی اثاثے بحال کر دے گا۔

پاکستان، عمان اور قطر جیسے ممالک اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ سٹریٹجک طور پر مفید ہے کہ اس کے دو اہم شراکت داروں (امریکہ اور ایران) کے درمیان کشیدگی کم ہو تاکہ پاک، ایران گیس پائپ لائن جیسے منصوبے مکمل ہو سکیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی بھی معاہدہ یا لچک پاکستان کے لیے "گیم چینجر" ثابت ہو سکتی ہے۔لچک دکھانا اب کوئی اخلاقی انتخاب نہیں بلکہ ایک تزویراتی مجبوری ہے۔ تاہم، یہ لچک انتہائی سست اور مرحلہ وار ہوگی۔ ماضی کے برعکس، پاکستان اب عالمی طاقتوں کے ساتھ "ڈکٹیشن" لینے کے بجائے "باہمی احترام اور مفاد" کی بنیاد پر بات کرتا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا ہو یا یوکرین کے بحران پر غیر جانبدارانہ موقف، پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کرتا ہے، نہ کہ کسی بیرونی دباؤ کے تحت بات کرتا ہے۔ روس کا پاکستان کی طرف جھکاؤ، چین کا رجحان اور امریکہ کی مسلسل وابستگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب پاکستان کو ایک "سٹریٹجک پارٹنر" کے طور پر دیکھتی ہیں۔ پاکستان "تجارتی گیٹ وے" بن چکا ہے اسی وجہ سے اسلام آباد دنیا بھر کی سیاست میں مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔