واشنگٹن(رم نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین عسکری اور اقتصادی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اب ایران اپنا تیل عالمی منڈی میں فروخت نہیں کر سکے گا، جبکہ ایرانی بندرگاہوں کو آج سے سیل کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ کو سمندر میں ڈبو دیا گیا ہے اور اب تک ان کے 158 بحری بیڑے تباہ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے ایران کی فوجی طاقت کو کچل دیا ہے۔ جو بھی ہمارے جہازوں پر فائرنگ کرے گا اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ ہم نے اپنی نیوی کو حکم دیا ہے کہ وہ ان جہازوں کو نشانہ بنائیں جو ایران کو ٹول ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے، تاہم ایران نے وعدہ خلافی کی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستانی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہافیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف غیر معمولی شخصیات ہیں۔پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا جس پر میں ان کی قدر کرتا ہوں۔ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کر رہا ہے، جسے ہم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مذہبی پیشوا پوپ لیو کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پوپ لیو بہت زیادہ لبرل ہیں اور وہ جرائم کو پسند کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پوپ کا ایران کے حق میں بات کرنا امریکی مفادات کے منافی ہے۔ صدر ٹرمپ نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ امریکہ کے پاس روس اور سعودی عرب سے بھی زیادہ تیل موجود ہے، اس لیے ایرانی تیل کی بندش سے عالمی معیشت کو فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں بچھی بارودی سرنگوں کو تباہ کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے تاکہ دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر ناکہ بندی کو مزید سخت کیا جا سکے۔