آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: برطانیہ نے امریکی مہم میں شامل ہونے سے انکار کر دیا

لندن / واشنگٹن(رم نیوز)برطانوی حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے فیصلے کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق لندن نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں واشنگٹن کے بجائے اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دے گا۔ برطانوی حکومت کے ترجمان نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنا عالمی معیشت کے استحکام اور برطانیہ میں مہنگائی کی لہر کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا"برطانیہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔برطانیہ اب فرانس اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک وسیع تر اتحاد بنانے پر غور کر رہا ہے تاکہ خطے میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ناکہ بندی کے عملی نفاذ کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ناکہ بندی پاکستانی وقت کے مطابق آج شام 7 بجے سے شروع کر دی جائے گی۔ یہ ناکہ بندی خلیج عرب اور خلیج عمان میں صرف ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں تک محدود ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو ٹول ادا کرنے والے جہازوں کو بھی روکا جائے گا۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی رسد کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ برطانیہ کا اس ناکہ بندی سے الگ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یورپی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی سخت گیر پالیسیوں کے بجائے سفارتی اور آزادانہ تجارتی پالیسی کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ناکہ بندی کے آغاز سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔