واشنگٹن / تہران(رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک مشکل سیاسی اور معاشی امتحان میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا طویل جنگ کا فیصلہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی (Mid-term) انتخابات میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ اس وقت شدید اندرونی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔
تازہ ترین کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق مہنگائی کی شرح گزشتہ دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ تصادم کی صورت میں آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا سبب بنے گی، جس کا براہِ راست اثر امریکی صارفین پر پڑے گا۔ مہنگائی سے پریشان امریکی عوام الیکشن کے سال میں کسی نئی اور مہنگی جنگ کے حق میں نہیں ہیں، اور صدر ٹرمپ اس خطرے سے بخوبی واقف ہیں۔ عالمی امور کے ماہرین کاکہنا ہے کہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ محض "سخت طاقت" کے استعمال سے جھکنے والا نہیں ہے۔
تہران کے پاس افزودہ یورینیم کے ذخائر اور خطے میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے، ایران کو مذاکرات میں کوئی جلدی نہیں اور وہ کسی دباؤ میں آ کر رعایتیں نہیں دے گا۔ اطلاعات ہیں کہ صدر ٹرمپ کھلی جنگ کے بجائے ایران کی بحری ناکہ بندی پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی فوج نے اس سلسلے میں آبنائے ہرمز میں ایک "محفوظ بحری راہداری" بنانے کی تجویز بھی دی ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا کوئی بھی قدم ایران کو اشتعال دلا سکتا ہے جس کے نتیجے میں جنگ کا خطرہ ٹلنے کے بجائے بڑھ جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ کس طرح ایران کو دباؤ میں لائیں جبکہ گھر کے اندر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور انتخابی شکست کا خوف ان کے ہاتھ باندھے ہوئے ہے۔ فی الحال ایسا دکھائی دیتا ہے کہ واشنگٹن اندرونی سیاسی استحکام کے پیشِ نظر کسی بڑے فوجی تصادم سے گریز کرے گا۔