تہران / یروشلم(رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، جہاں ایران کی دہائیوں پرانی 'فارورڈ ڈیفنس'کی حکمتِ عملی کو بیک وقت بیرونی حملوں اور اندرونی عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے نے ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو ایسا زخم دیا ہے جس کا بھرنا آسان نہیں ہوگا۔ ایران نے لبنان میں حزب اللہ، غزہ میں حماس، یمن میں حوثیوں اور عراق میں مختلف ملیشیاؤں کے ذریعے ایک ایسا دفاعی حصار قائم کر رکھا ہے جسے وہ اپنی پہلی حفاظتی لائن سمجھتا ہے۔اس نیٹ ورک کا ایک اہم ستون شام کی سابقہ حکومت تھی، جس کے ختم ہونے سے ایران کی سپلائی لائن اور علاقائی گرفت کمزور ہوئی ہے۔
اسرائیل نے اس پورے ڈھانچے کو ’محورِ شر‘ قرار دیتے ہوئے اسے جڑ سے اکھاڑنے کے لیے فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں تاکہ اپنے وجود کو لاحق خطرات کا خاتمہ کر سکے۔ ایران کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب میدانِ جنگ سے زیادہ اس کی معاشی صورتحال بن چکا ہے۔ شدید معاشی دباؤ اور مہنگائی کے شکار ایرانی عوام اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ حکومت قومی خزانہ بیرونِ ملک گروہوں پر خرچ کرنے کے بجائے عوام کی زندگی بہتر بنانے پر کیوں صرف نہیں کرتی؟۔
تہران کو اس وقت ایک مشکل فیصلے کا سامنا ہے؛ کیا وہ اپنے ان علاقائی اتحادیوں کو بچانے کے لیے مزید وسائل جھونک دے یا اندرونی عوامی غم و غصے کو کم کرنے کے لیے اپنی پالیسیوں میں لچک پیدا کرے؟۔ اگرچہ تہران کی جانب سے ابھی تک اپنے اتحادیوں سے دستبردار ہونے کے کوئی واضح اشارے نہیں ملے، لیکن ماہرینِ سیاسیات کے مطابق، اسرائیل کے مسلسل حملے اور شام جیسی بڑی تبدیلیوں کے بعد ایران کے لیے پرانی طرز پر 'پراکسی وار' جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ تہران کو اب اپنی بقا اور علاقائی اثر و رسوخ کے درمیان ایک نیا اور کٹھن توازن تلاش کرنا ہوگا۔