آبنائے ہرمز میں کشیدگی: روزانہ 20 لاکھ بیرل تیل کی رسد داؤ پر، عالمی معیشت 'سٹیگ فلیشن' کے خطرے سے دوچار

تہران(رم نیوز) آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے روزانہ 20 لاکھ بیرل تیل کی رسد داؤ پر ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات کی ناکامی اور توانائی کی منڈیوں میں بڑھتے ہوئے اتار چڑھاؤ نے عالمی معیشت کو ایک نئے بحران کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا خلل برقرار رہا تو عالمی مارکیٹ سے روزانہ 20 لاکھ بیرل خام تیل غائب ہو سکتا ہے۔

بحری نقل و حمل کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، ٹینکرز کی آمد و رفت میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ممکنہ بحری ناکہ بندی کی خبروں نے سرمایہ کاروں اور توانائی کی مارکیٹوں میں بے چینی پھیلا دی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔تیل مہنگا ہونے سے براہِ راست نقل و حمل اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔ بہت سے عالمی بینک جو شرحِ سود میں کمی کرنے والے تھے، اب اس فیصلے کو مؤخر کر سکتے ہیں، کیونکہ بلند قیمتیں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

یورپ اور ایشیا کے وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات درآمدات سے پوری کرتے ہیں، وہاں معاشی ترقی سست ہونے اور اخراجات بڑھنے کا امکان ہے۔عالمی سٹاک مارکیٹس نے اس صورتحال پر منفی ردِعمل دیا ہے، جہاں حصص کی قیمتوں میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، سست معاشی ترقی اور بلند مہنگائی کا یہ امتزاج عالمی معیشت کے لیے ایک خطرناک چیلنج بن سکتا ہے۔