ایران کی بحری ناکہ بندی کا آغاز: 'ایٹمی ہتھیاروں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا'، صدر ٹرمپ

واشنگٹن (رم نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ہے اور کسی کو بھی بلیک میلنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کی بنیادی وجہ یورینیم کی افزودگی کا معاملہ بنا۔امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ایرانی حکام نے ایک پیغام کے ذریعے معاہدے کی شدید خواہش ظاہر کی تھی، تاہم مذاکرات کے دوران یورینیم کے معاملے پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔

صدر کے بیان کے ساتھ ہی امریکی فوج نے باقاعدہ طور پر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔ امریکی سینٹ کام (CENTCOM) کے مطابق خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی پورٹس پر آنے جانے والے تمام بحری جہازوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔بغیر اجازت ناکہ بند علاقے میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کو قبضے میں لینے یا ان کا رخ موڑنے کے واضح احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے عالمی منڈی کو مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس اب سعودی عرب اور روس سے بھی زیادہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، اس لیے دنیا کو سپلائی کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز بھی آبنائے ہرمز سے 34 جہازوں کی محفوظ آمد و رفت ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ عالمی تجارتی راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے بحران کو جنم دے دیا ہے، جہاں ایک طرف سفارتی دروازے بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور دوسری طرف سمندروں میں فوجی نقل و حرکت عروج پر پہنچ گئی ہے۔1