واشنگٹن (رم نیوز) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر واشنگٹن میں ملاقاتوں کا ایک مصروف دن گزارا، جس میں پاکستان کے معاشی استحکام، بیرونی سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل تبدیلی پر اہم پیش رفت ہوئی۔وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف (IMF) کے ڈائریکٹر جہاد اظہور اور امریکی محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کا نقشہ پیش کیا۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کر لی ہے اور مستقبل کی تمام مالی ذمہ داریاں بھی بروقت پوری کی جائیں گی۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ملاقات میں پاکستانی برآمدات کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش اور دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے پر اتفاق کیا گیا۔
گوگل کے نائب صدر کرن بھاٹیا سے ملاقات میں تصدیق کی گئی کہ گوگل جولائی 2026 میں پاکستان میں اپنا باقاعدہ دفتر قائم کر دے گا۔ ملاقات میں پاکستان میں 'کروم بکس' کی مقامی سطح پر تیاری اور زراعت و صنعت میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ماسٹرکارڈ (Mastercard) کے عالمی حکام سے ملاقات کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو محفوظ بنانے اور ترسیلاتِ زر کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر مشاورت ہوئی۔
وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت فن ٹیک (Fintech) کے شعبے میں جدت لانے کے لیے پرعزم ہے۔ ملاقاتوں کے دوران سینیٹر محمد اورنگزیب نے عالمی حکام کو مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی سے پاکستانی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے اسے ایک بڑا "سپلائی شاک" قرار دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔وزیر خزانہ کے ان ملاقاتوں کے سلسلے کو پاکستان کی "معاشی سفارت کاری" میں ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں پاکستان کا اعتماد بحال ہونے کی توقع ہے۔