واشنگٹن (رم نیوز) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات میں کافی پیش رفت کے باوجود دو ایسے مطالبات تھے جن پر ایران نے لچک نہیں دکھائی، اور یہی وہ "ریڈ لائنز" ہیں جن پر صدر ٹرمپ کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ امریکہ کا پہلا اور بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ایران کے پاس موجود تمام افزودہ یورینیم کا ذخیرہ امریکہ کے حوالے کر دیا جائے۔ جے ڈی وینس کے مطابق، اگرچہ 'آپریشن مڈ نائٹ ہیمر' کے بعد یہ مواد ملبے تلے دبا ہوا ہے، لیکن امریکہ اسے مکمل طور پر ایران سے باہر نکال کر اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں اس کے غلط استعمال کا کوئی امکان نہ رہے۔
دوسرا نکتہ ایران کی جوہری صلاحیت اور اس کی نگرانی سے متعلق ہے۔ ایران اس بات پر تو راضی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، لیکن امریکہ صرف زبانی یقین دہانی پر تیار نہیں۔ امریکہ ایک ایسا ٹھوس تصدیقی نظام وضع کرنا چاہتا ہے جو یقینی بنائے کہ ایران خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں پر کام نہیں کر رہا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے پاس یورینیم افزودہ کرنے کی سرے سے کوئی صلاحیت ہی باقی نہ رہے۔مذاکرات بے نتیجہ رہنے کی دیگر وجوہات نائب صدر نے انٹرویو میں دو مزید اہم پہلوؤں کی طرف بھی اشارہ کیا۔
جے ڈی وینس کا خیال ہے کہ مذاکرات کرنے والی ایرانی ٹیم کے پاس حتمی معاہدہ کرنے کا مکمل اختیار نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی وفد نے مزید وقت ضائع کرنے کے بجائے مذاکرات ختم کر کے واپس جانے کو ترجیح دی۔ امریکہ کا موقف ہے کہ وہ ایسی کوئی ڈیل قبول نہیں کرے گا جس میں ایران کو کوئی رعایت ملے، بلکہ صدر ٹرمپ صرف اسی صورت میں دستخط کریں گے جب وہ محسوس کریں کہ یہ امریکہ کے حق میں ایک "بہترین ڈیل" ہے۔ امریکہ کا مقصد صرف "وعدہ" لینا نہیں بلکہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کو مادی طور پر ختم کر کے اس کا کنٹرول حاصل کرنا ہے، جس پر فی الحال دونوں فریقین کے درمیان اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔