نیویارک(رم نیوز) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔سیکریٹری جنرل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس کشیدگی کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طاقت کا استعمال مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، اس لیے فریقین کو سفارت کاری کا راستہ اپنانا چاہیے۔
انتونیو گوتریس نے مطالبہ کیا کہ موجودہ جنگ بندی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی عسکری خلاف ورزی سے گریز کیا جائے۔ کسی حتمی اور جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے تعطل کا شکار مذاکرات کو فوری طور پر دوبارہ شروع کیا جائے۔ سیکریٹری جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات بیان کی ہیں اور امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کو خدشہ ہے کہ مذاکرات کی عدم موجودگی میں سمندری حدود میں کوئی بھی چھوٹی جھڑپ ایک بڑے عالمی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
انتونیو گوتریس نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور انہیں دوبارہ بات چیت کی طرف لانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔