ناکہ بندی کی سیاست: کیا امریکہ اپنے ہی اتحادیوں کے دباؤ کا شکار ہو جائے گا؟

تہران / واشنگٹن(رم نیوز)آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کی سیاست کی وجہ سے کیا امریکہ اپنے ہی اتحادیوں کے دباؤ کا شکار ہو جائے گا؟۔ یا اس آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا انجام کیا ہوگا۔ یہ وہ سوال ہے جو مبصرین کے ساتھ ساتھ زبان زد عام ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے سمندروں میں جاری حالیہ رسہ کشی نے عالمی توانائی کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کا مقصد تہران کو مالی طور پر مفلوج کرنا ہے، لیکن ماہرین اسے ایک دو دھاری تلوار قرار دے رہے ہیں۔

ایران نے جنگ کے دوران اب تک اپنی تیل کی برآمدات کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اربوں ڈالر کا ریونیو بھی حاصل کیا۔ اس کے برعکس، ایران نے اپنی عسکری اور پراکسی قوتوں کے ذریعے خلیج کے دیگر ممالک کی سپلائی لائنز میں خلل ڈالا۔ اب امریکہ اس 'یک طرفہ برتری' کو ختم کرنے کے لیے سمندری ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔دفاعی ماہرین کے نزدیک ایران کا خیال ہے کہ اگر ناکہ بندی سے ایرانی تیل رکتا ہے، تو عالمی منڈی میں قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔

قیمتیں بڑھنے کی صورت میں یورپ اور ایشیا کے وہ ممالک جو تیل کے درآمد کنندہ ہیں، امریکہ پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ اس سخت پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ اگرچہ ایرانی معیشت دہائیوں سے لگی پابندیوں کے باعث کمزور ہے، لیکن تہران نے ثابت کیا ہے کہ وہ شدید ترین فوجی حملوں کے باوجود اپنا ڈھانچہ برقرار رکھ سکتا ہے۔ ایران کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا وہ اپنی سپلائی کے متبادل راستے (جیسے کہ پائپ لائنز یا سمگلنگ) استعمال کر سکے گا یا نہیں۔ موجودہ صورتحال صرف دو ممالک کی جنگ نہیں بلکہ ایک عالمی اقتصادی جوا بن چکی ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو یہ ایران کے لیے سفارتی فتح ہوگی، لیکن اگر امریکہ ناکہ بندی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا، تو ایران کو اپنی جوہری اور علاقائی پالیسیوں پر سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے۔