واشنگٹن / تہران (رم نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اپنے اختتام کے قریب ہے اور تہران اب ہر صورت میں معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آنے والے 48 گھنٹے عالمی سیاست کے لیے انتہائی غیر معمولی ہوں گے جس کا مرکز پاکستان بنے گا۔ صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ محض عارضی جنگ بندی میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں بلکہ وہ اس جنگ کا مکمل اختتام چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کو مذاکرات کے لیے بہترین جگہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی وفد کا آئندہ دو روز میں پاکستان جانے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے پاکستانی عسکری قیادت کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان کے فیلڈ مارشل لاجواب ہیں اور بہت اچھا کام کر رہے ہیں، اسی لیے ہم نے مذاکرات کے لیے پاکستان کو منتخب کیا۔
انہوں نے امریکی میڈیا کو ہدایت کی کہ وہ بڑی خبروں کے لیے پاکستان میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔ایرانی قیادت، بشمول اسپیکر پارلیمان اور وزیر خارجہ، نے بھی پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ تکنیکی ٹیم کے ذریعے امریکی نمائندوں سے ملنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی ٹی وی کے مطابق، اگر جنگ بندی سے قبل حتمی ملاقات ہوتی ہے تو اس کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ وفد میں صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے نیٹو (NATO) کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحاد امریکہ کے لیے کبھی مؤثر ثابت نہیں ہوا اور یہ تنظیم نہ ماضی میں امریکہ کے ساتھ کھڑی تھی اور نہ ہی مستقبل میں اس سے کوئی امید رکھی جا سکتی ہے۔