تیل کا عالمی بحران: مغربی ممالک نے قیمتیں گرانے کے لیے 'آخری حربہ' استعمال کر لیا

واشنگٹن / لندن (رم نیوز) مغربی ممالک نے تیل کی قیمتیں گرانے کے لیے 'آخری حربہ' استعمال کر لیا ۔ ایران جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والے سنگین تعطل سے نمٹنے کے لیے مغربی ممالک نے ایک غیر معمولی قدم اٹھایا ہے۔ مارکیٹ میں تیل کی قلت کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے اپنے سٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل خام تیل فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے، تاکہ قیمتوں کو ایک خاص حد سے اوپر جانے سے روکا جا سکے۔ دنیا میں تیل کی یومیہ کھپت تقریباً 10 کروڑ 50 لاکھ بیرل ہے۔

تاہم حالیہ کشیدگی نے سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے روزانہ ایک سے ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے ۔ مغربی ممالک اپنے سٹریٹجک ذخائر سے روزانہ 30 سے 40 لاکھ بیرل تیل نکال کر اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سپلائی بڑھانے کے لیے امریکہ نے ایرانی اور روسی آف شور تیل پر سے پابندیاں ہٹا دی ہیں جبکہ چین بھی اپنے ذخائر استعمال کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ہنگامی اقدامات صرف چار سے پانچ ماہ تک جاری رکھے جا سکتے ہیں، جس کے بعد مغربی ممالک کے ذخائر خطرناک حد تک گر جائیں گے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے ماضی میں ان ذخائر کے استعمال پر کڑی تنقید کی تھی، اب خود ایک مشکل صورتحال میں ہیں۔ قانون اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت امریکہ سمیت دیگر ممالک کو تیل کی قیمتوں میں توازن کا انتظار کیے بغیر اپنے سٹریٹجک ذخائر کو دوبارہ بھرنا پڑے گا۔ ماہرین کا انتباہ ہے کہ جب یہ ممالک دوبارہ خریداری شروع کریں گے، تو اس سے تیل کی قیمتوں کو نیا سہارا ملے گا اور توانائی بحران کا دورانیہ مزید طویل ہو سکتا ہے۔ یہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کا وہ طویل المدتی نتیجہ ہے جو عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔