اثاثوں کا انجماد: ایران اور امریکہ کے درمیان 47 سالہ 'مالی ڈیڈ لاک' کا خاتمہ قریب؟

اسلام آباد / تہران (رم نیوز) ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ سفارتی کوششوں میں "منجمد اثاثوں" کا معاملہ ایک بار پھر دیوار بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح پیغام دیا ہے کہ جب تک عالمی بینکوں میں قید اس کی قومی دولت بحال نہیں کی جاتی، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کی کامیابی ناممکن ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا 'پریس ٹی وی' کے مطابق، یہ معاشی جنگ 14 نومبر 1979 کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر جمی کارٹر نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے ایران کے 8 ارب ڈالر منجمد کیے۔

اس فیصلے کے بعد سٹی بینک، ایچ ایس بی سی اور ڈوئچے بینک جیسے بڑے اداروں نے ایران سے لین دین روک دیا تھا۔ شیل، ٹوٹل اور بوئنگ جیسی کمپنیوں کے ایران میں جاری اربوں ڈالرز کے منصوبے گذشتہ 47 برسوں سے ادھورے پڑے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ 1981 کے الجزائر معاہدے کے تحت ہونے والی بحالی بھی "نامکمل اور مشروط" تھی، جہاں اسے اصل رقم کا نصف بھی نہیں مل سکا تھا۔ اب جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے خواہشمند ہیں، تہران نے اسے امریکی سنجیدگی کا "فائنل ٹیسٹ" قرار دے دیا ہے۔