مذاکرات کی میز پر اسرائیل کا 'حزب اللہ کارڈ': بیروت پر دباؤ بڑھانے کی نئی حکمتِ عملی

واشنگٹن / بیروت (رم نیوز) لبنان اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں بعد ہونے والے پہلے براہِ راست مذاکرات واشنگٹن میں شروع ہو گئے ہیں، جہاں اسرائیل نے اپنا بنیادی تزویراتی ہدف واضح کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے حالیہ بیانات اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کا واحد اور مرکزی مطالبہ حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا اور اس کے عسکری ڈھانچے کا خاتمہ ہے۔ اسرائیل نے ان مذاکرات میں یہ موقف اپنایا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی تمام تر ذمہ داری لبنانی حکومت اور فوج کو اٹھانی ہوگی۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ صرف فضائی بمباری یا جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی سے حزب اللہ کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکتا؛ اس کے لیے پورے ملک پر قبضہ درکار ہوگا جو اسرائیل کے لیے ممکن نہیں۔ اسرائیل نے بیروت پر واضح کر دیا ہے کہ اگر ریاست اپنی رٹ قائم کرنے اور حزب اللہ سے ہتھیار چھیننے میں ناکام رہی، تو لبنان کو "ناقابلِ تلافی نقصان" اٹھانا پڑے گا۔اسرائیلی سفارت کاروں کے مطابق، ان مذاکرات کا ایک بڑا مقصد شمالی اسرائیل کے ان شہریوں کو مطمئن کرنا ہے جو حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ تب تک جنگ بندی نہیں کرے گا جب تک شمالی سرحد پر حزب اللہ کا خطرہ مستقل بنیادوں پر ختم نہیں ہو جاتا۔ مذاکرات کی میز پر ہونے والی گفتگو کے برعکس، جنوبی لبنان میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی فوج کو حزب اللہ کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے اسرائیلی داخلی سیاست میں بھی "فوجی تھکن" اور حکمتِ عملی کی غیر واضح صورتحال پر بحث چھڑ گئی ہے۔