پشاور (رم نیوز)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ سال 27-2026 کا مالیاتی بجٹ نوجوانوں کی ترقی، غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کرنے پر مبنی ہوگا۔ یہ بات انہوں نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں صوبے کے مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
نوجوانوں کے لیے روزگار اور ہنر کے مواقع اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے خصوصی ہدایت دی کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور ای کامرس کی تربیت فراہم کرنے کے لیے جامع سکیمیں بنائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنرمند نوجوانوں کو اپنے کاروبار کے آغاز کے لیے مالی معاونت اور آسان شرائط پر کاروباری یونٹس فراہم کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں ضم اضلاع میں تین چھوٹی صنعتی بستیوں (Small Industrial Estates) کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ امن و امان اور سیف سٹی منصوبے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پشاور، مردان، کوہاٹ اور ضم اضلاع کو ’سیف سٹیز‘ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ تھانوں کی عمارتوں کو مضبوط بنایا جائے اور سپیشل برانچ سمیت سی ٹی ڈی (CTD) کو جدید ترین آلات اور ضلعی سطح پر انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے۔ توانائی اور زراعت میں جدت بجٹ تجاویز میں توانائی کے شعبے کو ترجیح دیتے ہوئے درج ذیل اقدامات پر غور کیا گیا: سولرائزیشن: ضم اضلاع میں تمام سرکاری دفاتر اور گھروں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے کو فاسٹ ٹریک پر ڈالنے کی ہدایت۔ ہائیڈرو پاور: پاتراک شرینگل میں 22 میگا واٹ کے پاور سٹیشن اور تیراہ میں مائیکرو ہائیڈرو پاور سٹیشنوں کی بحالی۔ کسان دوست اقدامات: باغبانی کے لیے بلاسود قرضے اور غلہ ذخیرہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس گوداموں کا قیام۔ ماحولیات اور لائیو سٹاک وزیر اعلیٰ نے جنگلات کے رقبے میں اضافے کے لیے تین سالہ پلان طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
اس کے علاوہ جانوروں کی بیماریوں کی بروقت نگرانی (Surveillance) اور اینیمل رائٹس پالیسی کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کا حکم بھی جاری کیا۔ اجلاس میں ایکسائز، بلدیات، خوراک، ہاؤسنگ اور توانائی سمیت متعدد محکموں کے نئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور ان پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔