ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی اپنے منطقی انجام کے قریب ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

لاس ویگاس (رم نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی اپنے منطقی انجام کے قریب ہے اور اگلے دو ماہ کے اندر یہ جنگ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ تہران سے جنگ کا خواہشمند نہیں تھا، لیکن عالمی امن اور ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال ناگزیر ہو گیا تھا۔لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کی عسکری صورتحال اور اپنی حکومت کی ترجیحات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے کارروائی کے دوران ایرانی بحریہ کو مفلوج کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک مشکل ملک ہے اور وہاں کے لوگ اچھے فائٹر ہیں، لیکن امریکی جدید ٹیکنالوجی کا مقابلہ ممکن نہیں۔ افغانستان اور ویتنام جیسی طویل جنگوں کے برعکس ایران میں بہت جلد امریکہ کو فتح حاصل ہونے والی ہے۔سابقہ دورِ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جو بائیڈن کے دور میں امریکہ نے بدترین مہنگائی دیکھی۔ انہوں نے اپنی معاشی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا میرے دور میں امریکہ میں 18 ٹریلین ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوئی۔ ٹیکس میں کٹوتی کی پالیسی سے عوام کو ریلیف ملا، ورنہ نیویارک جیسی ٹیکس پالیسیاں لوگوں کو خودکشیوں پر مجبور کر دیتی ہیں۔سعودی عرب نے امریکہ میں 2 ٹریلین ڈالرز کی خطیر سرمایہ کاری کی ہے، جو کہ موجودہ انتظامیہ پر اعتماد کا مظہر ہے۔

سعودی عرب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے سعودی بادشاہ کو ایک "ذہین شخصیت" قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی قیادت کے مطابق دو سال قبل امریکہ سیاسی اور معاشی طور پر "مردہ" ہو چکا تھا، جسے دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر آمادہ ہو جائے اور کوئی ڈیل طے پا جائے، تو وہ پاکستان کا دورہ بھی کریں گے۔