لبنان اور اسرائیل میں 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز: بیروت میں جشن، شہریوں کی گھروں کو واپسی کی امید

بیروت/واشنگٹن (رم نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے نتیجے میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔ معاہدے کی خبر عام ہوتے ہی لبنانی دارالحکومت بیروت کی سڑکوں پر شہریوں کی بڑی تعداد نکل آئی اور جشن منایا، جبکہ کئی علاقوں میں خوشی میں ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اس اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس کے بعد دونوں فریقین 10 روزہ جنگ بندی پر رضامند ہوئے۔

صدر ٹرمپ نے کہا دونوں رہنماؤں نے امن کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے اس عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، اور میں جلد انہیں براہِ راست مذاکرات کی دعوت دوں گا۔ لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک کا دیرینہ مطالبہ قرار دیا۔ انہوں نے جنگ سے متاثرہ 10 لاکھ سے زائد بے گھر افراد کی جلد گھروں کو واپسی کی امید ظاہر کی۔ ادھر حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ ابراہیم الموسوی نے بھی واضح کیا کہ اگر اسرائیلی حملے مکمل طور پر بند رہے تو حزب اللہ جنگ بندی کی مکمل پاسداری کرے گی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس معاہدے کو ایک 'تاریخی موقع' قرار دیا ہے، تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل نے یہ شرط رکھی ہے کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں اسے 'سیلف ڈیفنس' کے تحت کارروائی کا حق حاصل رہے گا۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ سے چند گھنٹے قبل بھی اسرائیلی حملے جاری رہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنوبی علاقے صور میں حملوں کے دوران ایک پیرامیڈک سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے۔غازیہ کے علاقے میں ہونے والی بمباری میں 8 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 33 زخمی ہوئے۔یہ جنگ بندی فی الحال 10 روز کے لیے ہے، جسے فریقین کی باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ عالمی مبصرین اسے مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کی جانب ایک اہم ابتدائی قدم قرار دے رہے ہیں۔