خیبر پختونخوا میں تعلیمی ایمرجنسی: وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا آئی ٹی اور اے آئی کورسز شروع کرنے کا فیصلہ، 50 کروڑ روپے جاری

پشاور (رم نیوز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے کے تعلیمی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا اولین ہدف ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانا ہے تاکہ کوئی بھی بچہ اپنے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔وزیر اعلیٰ کی زیرِ صدارت تعلیمی اصلاحات کے جائزہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ انٹر ڈسپلنری ریسرچ سینٹر کے لیے 50 کروڑ روپے کے فنڈز فوری طور پر جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔

سرکاری سکولوں میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) اور آئی ٹی (IT) کورسز متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دور افتادہ علاقوں کے لیے نئے کمیونٹی اسکولوں کی تجویز اور ڈبل شفٹ پروگرام میں توسیع پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہم بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے انسانیت پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ صحت اور تعلیم براہِ راست عوام سے جڑے شعبے ہیں، اسی لیے گزشتہ چھ ماہ سے ہماری تمام تر توجہ انہی پر مرکوز ہے۔

وزیر اعلیٰ نے ای ،ٹرانسفر پالیسی، سکول بیسڈ اسسمنٹ اور ٹیچرز ٹریننگ جیسے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ان اصلاحات کو نچلی سطح تک پہنچانے کے لیے ایک خصوصی رابطہ کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی نظام میں ہمہ گیر تبدیلی لانا اور شرح خواندگی میں تیزی سے اضافہ کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرِ فہرست ہے۔