اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو واشنگٹن میں ہوگا

واشنگٹن(رم نیوز) اسرائیل اور لبنان کے درمیان دہائیوں بعد شروع ہونے والے براہِ راست سفارتی رابطوں میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں منعقد ہوگا، جس کی تصدیق امریکی محکمہ خارجہ اور اسرائیلی حکام نے کر دی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے 'سی این این' کے مطابق، گزشتہ منگل کو ہونے والے پہلے کامیاب اجلاس کے بعد اب دوسرے دور کی تیاریاں مکمل ہیں۔ اس بار بھی اسرائیلی وفد کی قیادت سفیر یخیئل لیٹر کریں گے۔ لبنانی وفد کی قیادت سفیر سائمن کرم کے سپرد کی گئی ہے۔ لبنانی صدر کے دفتر کے مطابق، ان مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کا مستقل خاتمہ ہے۔ ایجنڈے کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازع پر مبنی کارروائیوں کو مستقل طور پر روکنا، جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا یقینی بنانا، بین الاقوامی سرحدوں کے مطابق لبنانی فوج کی موثر تعیناتی۔

لبنانی صدر جوزف عون نے اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا جس سے جنگ بندی ممکن ہوئی اور مذاکراتی عمل کی راہ ہموار ہوئی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی 14 اپریل سے شروع ہونے والے اس عمل کو "مثبت اور سنجیدہ" قرار دیتے ہوئے سہولت کاری جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔سفارتی کوششوں کے باوجود جنوبی لبنان میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فورسز نے درج ذیل علاقوں کو نشانہ بنایا۔ دریائے لیتانی: ققعیۃ الجسر کے قریب ڈرون حملہ کیا گیا، شمعا قصبے، طیبہ، القُصیر اور القنطرہ کے علاقوں میں بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔