نیویارک / لندن(رم نیوز) امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے فیصلے نے عالمی منڈیوں میں چھائے بے یقینی کے بادل چھٹنا شروع کر دیے ہیں۔ منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے بعد بالآخر قیمتیں 100 ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئیں۔کاروباری دن کے آغاز میں منڈیوں میں شدید تشویش دیکھی گئی جس کے باعث قیمتیں تیزی سے اوپر گئیں۔ مذاکرات سے متعلق متضاد خبروں کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا اور یہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے باقاعدہ اعلان کے بعد مارکیٹ میں استحکام دیکھا گیا اور برینٹ کروڈ کی قیمت کم ہو کر 98.97 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اگرچہ حالیہ کمی سے صارفین اور صنعتوں کو عارضی سکون ملا ہے، تاہم مجموعی طور پر توانائی کا بحران برقرار ہے۔فروری کے آخر میں کشیدگی شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تیل کی موجودہ قیمتیں اب بھی 35 فیصد زیادہ ہیں۔مارکیٹ ماہرین کے مطابق 100 ڈالر سے نیچے کی سطح برقرار رہنے کا دارومدار ایران کے مذاکراتی میز پر واپس آنے کے فیصلے سے جڑا ہے۔