پاکستان کی بلیو اکانومی میں انقلاب: کورنگی میں جدید 'فشریز و ایکواکلچر ریسرچ سینٹر' کے قیام کا فیصلہ

اسلام آباد (رم نیوز) وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کورنگی فش ہاربر پر جدید ترین فشریز اور ایکواکلچر تحقیقی و تربیتی مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 10 ایکڑ رقبے پر محیط یہ منصوبہ پاکستان کی سمندری صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور برآمدات میں اضافے کے لیے کلیدی سنگِ میل ثابت ہوگا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا فشریز سیکٹر بے پناہ صلاحیت کے باوجود مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں صرف 0.5 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔

نیا مرکز ایک مکمل "ایکوا ایکوسسٹم" کے طور پر کام کرے گا جہاں مچھلی کے شکار، فارمنگ، پروسیسنگ، کوالٹی ٹیسٹنگ اور پیکنگ کی تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں گی۔ منصوبے کے تحت درج ذیل جدید اقدامات کیے جائیں گے،سمارٹ فارمنگ، سینسرز اور خودکار نظام (RAS) کے ذریعے مچھلی کی افزائش اور پانی کا دوبارہ استعمال، جھینگا، تیلاپیا اور پومفریٹ جیسی اہم اقسام کی افزائشِ نسل اور بیماریوں سے بچاؤ پر فوکس، فارمنگ، لاجسٹکس اور لیبارٹریز کے شعبوں میں نئی ملازمتوں کا قیام وغیرہ جنید انوار چوہدری نے واضح کیا کہ اس منصوبے کا طویل المدتی ہدف پاکستان کو خطے میں ایکواکلچر کا مرکز بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی اداروں، جامعات اور نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ اشتراک کیا جائے گا تاکہ سمندری خوراک کی برآمدات کے ذریعے قیمتی زرِ مبادلہ کمایا جا سکے۔