سولر لائسنسنگ پر صارفین کی تشویش: نیپرا نے صورتحال واضح کر دی، نئے ٹیکس کی تردید

اسلام آباد (رم نیوز) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر لائسنسنگ سے متعلق سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں گردش کرنے والی غلط معلومات کی تردید کرتے ہوئے صورتحال واضح کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سولر پینلز پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا بلکہ ریگولیشنز کو صرف دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

نیپرا حکام کے مطابق سولر لائسنسنگ کے حوالے سے درج ذیل حقائق پیش کیے گئے ہیں۔ آن گرڈسولر کنکشن کے لیے صرف ایک مرتبہ ایک ہزار روپے فی کلو واٹ فیس رکھی گئی ہے، یہ کوئی سالانہ ٹیکس نہیں ہے۔ ایسے صارفین جو بجلی کے قومی گرڈ سے منسلک نہیں ہیں، ان کا نیپرا کی منظوری یا لائسنسنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تمام سولر نیٹ بلنگ صارفین کو نیپرا سے منظوری لینا ہوگی۔ پہلے 25 کلو واٹ سے کم کیپیسٹی کے کنکشن کی منظوری تقسیم کار کمپنیاں (DISCOs) دیتی تھیں، تاہم اب نئے ریگولیشنز متعارف کرائے گئے ہیں۔

نیپرا نے واضح کیا ہے کہ سولر لائسنسنگ کے بارے میں پھیلائی گئی خبریں گمراہ کن ہیں۔ اتھارٹی کا مقصد صرف سولر سسٹم کی تنصیب کو باقاعدہ بنانا اور نیٹ میٹرنگ کے عمل کو شفاف رکھنا ہے۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ اطلاعات پر کان دھرنے کے بجائے سرکاری اعلامیہ پر بھروسہ کریں۔