امریکہ نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایرانی فارمولا مسترد کر دیا

واشنگٹن(رم نیوز)امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی گئی شرائط کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر کسی بھی ملک کی اجارہ داری یا بحری جہازوں سے "ٹول ٹیکس" کی وصولی کو ہرگز تسلیم نہیں کرے گا۔ فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو ایک "اقتصادی ایٹمی ہتھیار" کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا اگر ایران کا آبنائے کھولنے سے مراد یہ ہے کہ جہاز رانی صرف ان کی اجازت اور پیسوں کی ادائیگی سے ہوگی، تو یہ 'آبنائے کھولنا' نہیں بلکہ بھتہ خوری ہے۔

ہم ایسے نظام کو کبھی نارملائز نہیں ہونے دیں گے جہاں ایران طے کرے کہ بین الاقوامی پانیوں کو کون استعمال کرے گا۔روبیو نے مزید کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو امریکہ ایران پر معاشی دباؤ برقرار رکھے گا تاکہ اسے ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو ایک نیا 'تین نکاتی' امن فارمولا پیش کیا ہے، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں،پہلے عارضی اور پھر مستقل جنگ بندی کی ضمانت دی جائے۔ اگر امریکہ ایران کی بحری و معاشی ناکہ بندی ختم کرے تو ایران آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھول دے گا۔ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق دیا جائے، جس کے بعد ایٹمی پروگرام پر جامع بات چیت ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تجاویز پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ اس بات پر ناخوش ہیں کہ ایران کی تجاویز میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کو ترجیح نہیں دی گئی۔ صدر ٹرمپ نے کہا ایران اگر ایٹمی ہتھیار نہیں چھوڑتا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔انہوں نے ایران کو براہِ راست فون کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ "ہماری فون لائنز محفوظ ہیں، اگر وہ سنجیدہ ہیں تو رابطہ کریں۔