’زہر دے کر مارنے‘ کے مشوروں سے ورلڈ گولڈ میڈل تک: بغیر ہاتھ پاؤں والی پایل ناگ کی تاریخ ساز کامیابی

مقبوضہ جموں و کشمیر(رم نیوز)عزم و ہمت کی زندہ مثال، 18 سالہ بھارتی پیرا تیر انداز پایل ناگ نے بنکاک میں منعقدہ ورلڈ آرچری پیرا سیریز میں گولڈ میڈل جیت کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ پایل دنیا کی وہ واحد تیر انداز ہیں جو ہاتھوں اور پیروں دونوں سے محروم ہیں، لیکن اپنی معذوری کو انہوں نے اپنی طاقت بنایا ہے۔ پایل کی زندگی کا رخ اس وقت بدلا جب وہ 7 سال کی عمر میں بجلی کے زوردار جھٹکے کا شکار ہوئیں، جس کے باعث ان کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹنے پڑے۔ اس کٹھن وقت میں جہاں والدین کو سہارے کی ضرورت تھی، وہیں کچھ رشتہ داروں نے یہ تک مشورہ دیا کہ "اسے زہر دے کر مار ڈالو کیونکہ یہ زندگی بھر بوجھ رہے گی۔

پایل کی صلاحیتوں کو ان کے کوچ کلدیپ ویداون نے پہچانا، جو انہیں اڈیشہ کے ایک یتیم خانے سے جموں کی آرچری اکیڈمی لے کر آئے۔ پایل نے اپنی معذوری کا حل ایک منفرد تکنیک سے نکالا۔ وہ اپنے دائیں پاؤں سے کمان تھامتی ہیں اور دائیں کندھے کی مدد سے تیر کھینچتی ہیں۔ محض دو سال کی تربیت کے بعد انہوں نے بنکاک میں ورلڈ چیمپئن شپ جیت لی۔انہوں نے پیرالمپک میڈلسٹ شیتل دیوی کو بھی شکست دے کر ثابت کیا کہ وہ اب کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ اپنی بڑی بہن ورشا کی مسلسل دیکھ بھال اور کوچز کی رہنمائی میں پلنے والی پایل ناگ اب 2028 کے پیرالمپکس پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ لمحہ ان کی زندگی کا سب سے خوشگوار تھا جب ان کے گلے میں گولڈ میڈل ڈالا گیا۔ پایل کی یہ جیت ان تمام لوگوں کے لیے ایک جواب ہے جنہوں نے انہیں جینے کا حق دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔