ایران کے لیے پاکستانی تجارتی راہداری، عالمی پابندیوں کے باوجود ٹرانزٹ کی قانونی حیثیت اور مضمرات

اسلام آباد(رم نیوز) پاکستان نے ایران پر عائد امریکی اور عالمی پابندیوں کے باوجود اسے تجارتی راہداری (ٹرانزٹ) فراہم کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ماہرینِ معیشت اور قانون دانوں کے درمیان اس کی قانونی حیثیت اور پاکستان پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق پاکستان 'یونائیٹڈ نیشنز لا آف دی سی' (UNCLOS) کے تحت ایک ایسے ملک کو راہداری فراہم کرنے کا پابند ہے جو جغرافیائی حالات کی وجہ سے 'لینڈ لاک' (Landlocked) ہو چکا ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان براہِ راست ایران سے تجارت نہیں بڑھا رہا بلکہ صرف اپنے راستے سے مال گزرنے کی اجازت دے رہا ہے، اس لیے اس پر امریکی پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی طاقتوں کو اعتماد میں لیے بغیر ممکن نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان نے ممکنہ طور پر امریکہ اور دیگر متعلقہ فریقین کو اس فیصلے سے قبل آگاہ کر دیا تھا، یہی وجہ ہے کہ اب تک واشنگٹن کی جانب سے کوئی منفی ردعمل سامنے نہیں آیا۔جنگی صورتحال کے باعث ایران میں ادویات اور خوراک کی قلت ہے، اور ٹرانزٹ کے ذریعے صرف وہی اشیاء لائی جائیں گی جو عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔

اگرچہ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے پوری کرتا ہے، تاہم ایران کے ساتھ محدود پیمانے پر تجارت جاری ہے۔ بینکنگ چینلز کی عدم دستیابی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اشیاء کے بدلے اشیاء (Barter) کی تجارت ہوتی ہے۔ اس راہداری کے کھلنے سے خطے میں پاکستان کا معاشی کردار مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔ مبصرین کے مطابق، ایران کو ٹرانزٹ کی سہولت دینا پاکستان کی ایک متوازن سفارتی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد معاشی مفادات اور بین الاقوامی قوانین کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔