تیل کی قیمتوں کے عالمی فیصلے کہاں ہوتے ہیں؟ اوپیک اور اوپیک پلس کا طاقتور نیٹ ورک کیا ہے؟

ویانا (رم نیوز) عالمی منڈی میں پیٹرول اور خام تیل کی قیمتیں کسی ایک ملک کی مرضی سے نہیں بلکہ ایک طاقتور اتحاد کے فیصلوں سے طے ہوتی ہیں، جسے اوپیک اور اوپیک پلس کہا جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حالیہ علیحدگی کے بعد اس گروپ کی ساخت اور اثر و رسوخ پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔اوپیک کا قیام 1960 میں عمل میں لایا گیا تھا تاکہ تیل برآمد کرنے والے ممالک اپنی مصنوعات کی قیمتوں اور رسد پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکیں۔اس گروپ میں مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے 13 ممالک شامل ہیں جو دنیا کے کل خام تیل کا 30 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ سعودی عرب اس تنظیم کا سب سے بڑا رکن ہے جو تنہا یومیہ ایک کروڑ بیرل سے زائد تیل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

۔تیل کی عالمی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے 2016 میں اوپیک نے روس سمیت 10 دیگر غیر رکن ممالک کے ساتھ اتحاد کیا، جسے اوپیک پلس کا نام دیا گیا۔ یہ 23 ممالک کا گروپ دنیا کے 40 فیصد تیل کی پیداوار کو کنٹرول کرتا ہے۔ روس کی شمولیت نے اس گروپ کو دنیا کا طاقتور ترین توانائی بلاک بنا دیا ہے جو کسی بھی وقت عالمی معیشت کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔توانائی کے ماہرین کے مطابق اوپیک پلس ایک "مارکیٹ ریگولیٹر" کے طور پر کام کرتا ہے۔جب دنیا میں تیل کی طلب کم ہو جاتی ہے تو یہ تنظیم سپلائی میں کٹوتی کر دیتی ہے تاکہ قیمتیں گرنے نہ پائیں، اور ضرورت پڑنے پر پیداوار بڑھا کر قیمتوں کو مستحکم بھی کیا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی علیحدگی نے اس طاقتور گروپ کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بڑے پیدا کنندہ ممالک اس 'کارٹل' سے الگ ہو کر اپنی مرضی سے تیل فروخت کرنے لگے، تو قیمتوں پر اوپیک کی دہائیوں پرانی اجارہ داری ختم ہو سکتی ہے، جس کا براہِ راست فائدہ دنیا بھر کے عام صارفین کو پہنچے گا۔