امریکی محاصرہ، کیا ایرانی تیل کی صنعت بیٹھ جائے گی؟

تہران/ واشنگٹن(رم نیوز) امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل ناکہ بندی نے ایران کی تیل کی صنعت کو ایک ایسے سنگین موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے اپنی پیداوار میں 50 فیصد سے زائد کی جبری کٹوتی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بین الاقوامی تحقیقی ادارے کیپلر کی تازہ رپورٹ کے مطابق، امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں ایرانی تیل کی یومیہ برآمدات جو مارچ میں 18 لاکھ 50 ہزار بیرل تھیں، اپریل کے اختتام تک گھٹ کر صرف 5 لاکھ 67 ہزار بیرل رہ گئی ہیں۔ امریکی بحریہ کی جانب سے سخت نگرانی کی وجہ سے درجنوں بحری جہازوں کو ایرانی تیل لیے بغیر ہی اپنا رخ بدلنا پڑا ہے۔

تیل کی فروخت رکنے کے باعث ایران نے اپنے کنوؤں کو فعال رکھنے کے لیے 'ایمرجنسی سٹوریج' کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ایران کے پاس 9 کروڑ بیرل تیل زمین پر ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔اس کے علاوہ، ایران کے زیرِ انتظام 19 بڑے بحری جہاز (VLCCs) اس وقت سمندر میں 'تیرتے ہوئے گوداموں' کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، جن میں سے ہر ایک 20 لاکھ بیرل تیل ذخیرہ کر سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس مزید تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ کیپلر کے تخمینے کے مطابق، ایران کے پاس صرف 12 سے 22 دن کی گنجائش باقی ہے۔ اگر امریکی ناکہ بندی مئی کے وسط تک اسی طرح جاری رہی، تو ایران کو اپنی یومیہ پیداوار 27 لاکھ 50 ہزار بیرل سے کم کر کے 12 لاکھ بیرل تک لانی پڑے گی۔ یہ کٹوتی نہ صرف ایرانی معیشت کے لیے تباہ کن ہوگی بلکہ تکنیکی طور پر تیل کے کنوؤں کی مستقبل کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔