واشنگٹن/تہران(رم نیوز) امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ضمانتیں مانگی ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تجاویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی موقف: عدم اعتماد اور ناکہ بندی کا خاتمہ تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایرانی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ کا ہر محاذ پر مستقل خاتمہ کیا جائے اور یہ ضمانت دی جائے کہ ایران پر دوبارہ حملہ نہیں ہوگا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دو بار کیے گئے حملوں نے اعتماد کی فضا کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
ایران نے مذاکرات میں کسی بھی پیشرفت کو بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور پابندیوں کے حل سے مشروط کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا اعلان: 'ہم قزاقوں کی طرح کارروائی کر رہے ہیں' دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ذریعے ملنے والی ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ: ایران کی عسکری صلاحیت، بشمول میزائل تنصیبات اور بحریہ، تقریباً تباہ ہو چکی ہے۔ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران ’قزاقوں‘ کی طرح کام کر رہی ہے اور تیل و جہازوں پر قبضہ ایک 'منافع بخش کاروبار' بن چکا ہے۔ ایران میں اعلیٰ قیادت کے غائب ہونے سے حقیقی نظام کی تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔
پاکستان کا کردار اور مستقبل کی صورتحال صدر ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کے لیے ایک بار پھر احترام کا اظہار کیا، تاہم واضح کیا کہ جب تک ایران ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوتا اور امریکی مقاصد پورے نہیں ہوتے، وہ اس تنازع سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تیل کے 400 جہاز رکے ہوئے ہیں، جن کی روانگی سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔