متحدہ عرب امارات کا 59 سال بعد 'اوپیک' سے اخراج، عالمی تیل منڈی میں ہلچل

دبئی (رم نیوز)متحدہ عرب امارات نے پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (OPEC) اور اوپیک پلس سے باضابطہ علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ جمعہ سے نافذ العمل ہونے والے اس فیصلے کو عالمی توانائی مارکیٹ اور جیو پولیٹکس میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یو اے ای کافی عرصے سے اوپیک کی جانب سے مقرر کردہ پیداواری حدوں پر نالاں تھا۔ امارات نے اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، مگر تنظیم کی پابندیوں کی وجہ سے وہ اپنی مکمل صلاحیت مارکیٹ میں لانے سے قاصر تھا۔ علیحدگی کے بعد اب یو اے ای روزانہ 20 لاکھ (2 ملین) بیرل اضافی تیل فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہو گا، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی قیمتیں پہلے ہی بڑھی ہوئی ہیں۔ اس انخلاء کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر اوپیک کارٹیل کا اثر و رسوخ کم ہو جائے گا، جو امریکہ کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ امریکہ خود ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے، اور کارٹیل کے کمزور ہونے سے اسے معاشی و سیاسی فائدہ پہنچے گا۔

یہ اقدام یو اے ای کے امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی اور سیاسی تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، یو اے ای کے اس نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دیگر رکن ممالک بھی تنظیم سے علیحدگی پر غور کر سکتے ہیں۔ اگرچہ تنظیم کے مکمل خاتمے کا امکان کم ہے، تاہم اس کی عالمی اثر پذیری شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات خلیجی تعاون کونسل (GCC) پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔