اسلام آباد/تہران (رم نیوز)پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران نے پاکستان کی وساطت سے ایک نیا مذاکراتی منصوبہ امریکہ تک پہنچا دیا ہے، تاہم کسی بھی مثبت پیشرفت کے لیے امریکی رویے میں تبدیلی بنیادی شرط ہے۔ ایرانی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے سفیر رضا امیری مقدم نے تصدیق کی کہ موجودہ بحران کے حل کے لیے پاکستان مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی کوششیں انتہائی قابلِ قدر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے نیا منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکہ کو فراہم کر دیا گیا ہے، اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے۔۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکی رویے کو غیر مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن سنجیدہ ہے تو اسے جارحانہ پالیسی ترک کر کے ایران کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا موقف عالمی برادری کے سامنے واضح اور منطقی ہے۔ سفیر نے دونوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تفتان، میرجاوہ اور گبد ریمدان بارڈر کراسنگز دوطرفہ تجارت کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہیں۔ پاکستان اور ایران تجارتی راستوں میں تنوع اور معاشی تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے 14 نکاتی تجاویز موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
تاہم انہوں نے تہران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا۔ اسی تناظر میں اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف اور امریکی سینٹکام کمانڈر کے درمیان رابطوں میں تیزی آئی ہے جس میں ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر مشاورت کی جا رہی ہے۔